جمعہ 27 فروری 2026 - 17:42
اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا— وفا، ایثار اور ایمان کی پہلی شمع

حوزہ/ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اُس وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی تصدیق کی جب دنیا شک و انکار میں مبتلا تھی۔ بعثت سے پندرہ سال قبل آپ کا نکاح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے ہوا، اور جب پہلی وحی نازل ہوئی تو سب سے پہلے جس دل نے “لبیک” کہا وہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کا تھا۔

تحریر فدا حسین ساجدی

حوزہ نیوز ایجنسی I اسلام کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کا ذکر آئے تو عقیدت کے چراغ خود بخود روشن ہو جاتے ہیں۔ اُنہی مقدس اور عظیم ہستیوں میں سرِفہرست نام اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ بنت خویلد سلام اللہ علیہا کا ہے۔ آپ نہ صرف رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی پہلی زوجۂ مطہرہ تھیں بلکہ اسلام قبول کرنے والی سب سے پہلی خاتون اور پوری امت کے لیے صبر، وفاداری اور ایثار کا درخشاں نمونہ بھی تھیں۔

ایمان کی پہلی روشنی

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے اُس وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی تصدیق کی جب دنیا شک و انکار میں مبتلا تھی۔ بعثت سے پندرہ سال قبل آپ کا نکاح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے ہوا، اور جب پہلی وحی نازل ہوئی تو سب سے پہلے جس دل نے “لبیک” کہا وہ خدیجہ سلام اللہ علیہا کا تھا۔ آپ نے نہ صرف ایمان قبول کیا بلکہ اپنے مال، اثر و رسوخ اور پوری زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔

یہی وہ بے مثال قربانی تھی جس نے ابتدائی اسلام کو استحکام عطا کیا۔

معراج کی شب سلامِ خداوندی

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: شبِ معراج جب جبرئیل علیہ السلام مجھے آسمانوں کی سیر کرا کر واپس لائے تو میں نے پوچھا: "کیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟" جبرئیلؑ نے عرض کیا: "میری حاجت یہ ہے کہ خدیجہ کو اللہ کا اور میرا سلام پہنچا دیجئے۔"

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ نے زمین پر آکر یہ سلام پہنچایا تو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے جواب دیا:

"إنَّ الله هو السلام، ومنه السلام، وإليه السلام، وعلى جبرئيل السلام"

یعنی: بے شک اللہ ہی سلام ہے، اسی کی طرف سے سلام ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اور جبرئیل پر بھی سلام ہو۔ (بحار الانوار، ج16، ص7)

ایک اور روایت میں ہے کہ جبرئیلؑ نے عرض کیا: "وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ"

"انہیں جنت میں موتیوں کے ایک محل کی خوشخبری دیجئے جہاں نہ شور ہوگا نہ تھکن۔"

(بحار الانوار، ج16، ص8)

یہ اعزاز کسی اور خاتون کو نصیب نہیں ہوا کہ ربِّ کائنات کی طرف سے براہِ راست سلام اور جنت کی بشارت ملے۔

عامُ الحزن — وفا کا دردناک باب

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے لیے عظیم صدمہ تھی۔ اسی سال حضرت ابو طالب علیہ السلام بھی وفات پا گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ نے اس سال کو عامُ الحزن (غم کا سال) قرار دیا۔

روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا انتقال ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتے خصوصی کفن لے کر آئے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے خود قبر میں اتر کر اپنی وفادار زوجہ کو سپردِ خاک کیا۔ (الخصائص الفاطمیہ)

یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خدیجہ سلام اللہ علیہا صرف ایک بیوی نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے مشن کی سب سے بڑی مددگار تھیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی نظر میں

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: "میں نے خدیجہ کو نہیں دیکھا، لیکن جتنا رشک مجھے خدیجہ پر آتا تھا اتنا کسی اور پر نہیں آیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ انہیں کثرت سے یاد فرماتے تھے۔"

(مستدرک حاکم، ج3، ص186؛ اسد الغابہ، ج5، ص438)

وہ بیان کرتی ہیں کہ: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ گھر سے نکلتے تو خدیجہ سلام اللہ علیہا کا ذکر کرتے۔

ان کی تعریف فرماتے اور ان کے لیے استغفار کرتے۔

جب بکری ذبح کرتے تو فرماتے: "یہ خدیجہ کی سہیلیوں کو بھیج دو۔"

اور جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: "میں خدیجہ کے دوستوں سے بھی محبت کرتا ہوں۔"

(الاصابہ، ج4، ص275)

یہ وفاداری کا وہ معیار ہے جو رہتی دنیا تک مثال رہے گا۔

حضرت علیؑ کی نظر میں

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "سَيِّدَاتُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ أَرْبَعٌ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ"

(شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج10، ص266)

یعنی دنیا کی چار عظیم ترین خواتین میں حضرت خدیجہؓ کا نام سرِفہرست ہے۔

دیگر اہلِ علم کی آراء

مشہور سنی عالم ابن حجر لکھتے ہیں: "خدیجہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بعثت سے پہلے اور بعد ہر حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی تصدیق کرتی رہیں۔"

(الاصابہ، ج4، ص275)

عیسائی ادیب سلیمان الکتانی لکھتے ہیں: "خدیجہ نے اپنا مال اس طرح دیا جیسے کچھ دیا ہی نہ ہو، بلکہ وہ سمجھتی تھیں کہ وہ ہدایت حاصل کر رہی ہیں جو دنیا کے تمام خزانوں سے قیمتی ہے۔"

(وتر فی قمد؛ فاطمة الزهراء، ص112)

حضرت خدیجہؓ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ: ایمان محض الفاظ کا نام نہیں بلکہ قربانی کا تقاضا کرتا ہے۔

کامیاب ازدواجی زندگی باہمی اعتماد اور وفا سے بنتی ہے۔

عورت کا کردار قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

وہ اسلام کی پہلی ایمان لانے والی، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی سب سے وفادار رفیقہ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی عظیم ماں، اور جنت کے محل کی مستحق تھیں۔

آج بھی جب ایمان، صبر اور وفاداری کی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے جو نام دل میں اُبھرتا ہے وہ ہے: اُمُّ المؤمنین حضرت خدیجہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا نام ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha